بنگلورو، 10؍ اپریل ( ایس او نیوز ) 15 سال پرانی گاڑیوں پر افزود فیس وصول کئے جانے کے اقدام اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہور ہے اضافہ کو کم کرنے دیگر مطالبات کو مرکز اور ریاستی حکومتیں 30 دنوں کے اندر پورا نہیں کیا تو آنے والے دنوں میں ہڑتال شروع کرنے کا فیڈ ریشن آف لاری اونرس اینڈ ایجنٹس اسوسی ایشن نے حکومت کو اختباہ دیا ہے۔
اخباری کانفرنس کے دوران اسوی ایشن کے ریاستی صدر جی آر شنموگپا نے کہا کہ حکومت نے 15 سالہ پرانی گوڈس گا ڑیوں کی سرویس پر پابندی عائد کی ہے۔اس کے علاوہ ایسی گاڑیوں کی ایف سی پر افزودفیس وصول کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ سے اب تک کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے پرانی گاڑیوں کو اسکراپ کرنے کے مقصد سے ان گاڑیوں پر افزودفیس وصول کرنے کا حربہ استعمال کیا ہے اور نفس کے نام پر کافی زیادہ فیس وصول کی جا رہی ہے۔ گذشتہ 15 دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس سے گوڈس گاڑیوں کے مالکان کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ٹرانسپورٹ انتظام میں خلل پیدا ہوا ہے اور گاڑیوں کے مالکان کو نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر میں کورو ناوائرس کی وجہ سے لاری مالکان پر نہایت برا اثر پڑا ہے اور ان کا گزر معاش مشکل ہوگیا ہے ۔انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے مانگ کی کہ وہ ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی لاتے ہوئے لاری مالکان کو راحت کی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کر یں ۔
ریاست کے شاہراہ سے چتر اور گہ ، وجے پور، کوپل، ہاویری اضلاع میں داخلہ کے دوران محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران سرحدی علاقوں میں گاڑیوں کو روک کر بلا وجہ گاڑیوں کی تلاشی لے کر ظلم کرتے ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے بارڈر چیک پوسٹ کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ جن ٹول مراکز کی میعاد ختم ہوگئی ہے انہیں فوری بند کر دینا چاہئے ۔
انہوں نے بتایا کہ 45 ٹول مراکز کی میعاد ختم ہو چکی ہے، انہیں فوری منسوخ کیا جاۓ۔ نائس روڈ نلمنگل ٹول مراکز میں کروڑوں روپے وصول کئے جا چکے ہیں اور ان ٹول کی میعاد بھی ختم ہو چکی ہے۔ لیکن ابھی تک اس ٹول مرکز کو بندنہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگراسوی ایشن کی مانگ کو پوری نہیں کی تو 10 مئی کو اسوسی ایشن کی جانب سے اجلاس طلب کر کے ہڑتال شروع کرنے کی تاریخ طے کی جائے گی ۔اخباری کانفرنس میں اسوی ایشن کے دیگر عہدیدران بھی موجود تھے۔